انسانی حقوق کا اپاہج منشور

انسانی حقوق کا اپاہج منشور


حقوق حق کی جمع ہے جو عربی زبان کا لفظ ہے اور اسکا معنی ”صحیح“ اور ”درست“ کے ہے۔ اصطلاحی اور قانونی حیثیت سے انسانی حقوق سے مراد ایسے اقدار، قوانین اور ادارے ہیں جن کی بنیاد پر تمام انسان عزت و حرمت، امن، خوشحالی، انصاف، مذہبی و قومی آزادی، مساوات، روزگار کے برابر استحقاق رکھتے ہیں۔ یہ تمام انسانی حقوق ہیں اور اس کے تمام انسان برابر مستحق ہیں، اور اس کے لیے تمام تر رنگ، نسل، مذہب، ثقافت، زبان، مالی حیثیت کے تفریق سے بالاتر ہوکر صرف انسان ہونا ہی کافی ہے۔ یہی انسانی حقوق دنیا میں امن، انصاف اور خوشحالی قائم رکھنے کا ذریعہ ہے، اور ان سے لاپروائی کرنا یا ان حقوق کو پاؤں تلے روندنا دنیا میں وحشیانہ کارروائیوں کی بنیاد ہے۔ ان انسانی حقوق کے حصول کے لیے وضع کردہ اصول و قوانین پر کاربند رہنے اور انسانی حقوق کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے 10 دسمبر 1948ء کو اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے طرف سے ایک عالمی منشور کا اعلان کیا گیا جو تیس دفعات پر مشتمل ہے، اسی منشور کو ”انسانی حقوق کا عالمی منشور“ کہتے ہیں۔

انسانی حقوق کا عالمی منشور اگر چہ بلاتفریق رنگ و نسل اور بلا تفریق مذہب و ثقافت تمام نوع انسانی کے حقوق کے لیے وضع کیا گیا تھا لیکن یہ منشور اقوام متحدہ کے کرسی پر براجمان عالمی طاقتوں کے اشاروں پر حرکت میں آتا ہے۔ یہ منشور مغربی ممالک کے لیے اپنے مقاصد اور مفادات کے حصول کا ذریعہ بنا ہے۔ اور یہی عالمی طاقتیں جب چاہے جسے کو چاہے اس منشور کو بنیاد بنا کر اس کی حمایت کرنے میدان میں اتر آتے ہیں، اگر چہ جس کے ساتھ وہ حمایت کرتے ہیں وہ ظالم و جابر کیوں نہ ہو۔ یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ کئی دہائیوں سے اسرائیل امریکی اور برطانوی آشیرباد کے ساتھ فلسطین پر ظلم و دہشتگردی کے ذریعہ قابض ہے، اور فلسطین کے نہتے باشندوں پر ظلم و دھمکیوں کے طویل سلسلوں کے ذریعہ اپنی حکومت کو قائم رکھا ہے اور تا حال فلسطینی عوام پر اسرائیل کی ہولناک ظلم جاری ہے جس کے 75 برس گزر گئے۔ صیہونی دہشتگردوں نے ہزاروں گھر مسمار کیں، لاتعداد مساجد شہید کیں، لاکھوں افراد کو انکے گھروں سے بے دخل کردیا، ہزاروں کی تعداد میں بچے، جوان بوڑھے اور خواتین کو شہید کردیا، انکی زمینوں پر قبضہ کرلیا اور ان پر اسرائیلی بستیاں آباد کیں۔ لیکن اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے دوہرے منشور کے رو سے یہ دہشتگردی نہیں تھی بلکہ فائٹ آف فریڈم تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کونسی آزادی تھی اور کس سے تھی؟ کسی باشندے کو اسکے زمین سے نکالنا آزادی نہیں دہشتگردی ہے۔ اگر صیہونی بربریت کے خلاف فلسطینی مزاحمت کرتے ہیں تو وہ عالمی قوتوں کے نزدیک دہشتگردی ہے، لیکن اسرائیلی دہشتگردی کو وہ کبھی دہشتگردی نہیں کہے گی، کیونکہ خون مسلمانوں کا بہہ رہا ہے۔

فلسطینی مزاحمت پر عالمی قوتوں کو بار بار انسانی حقوق کا افسانہ یاد آتا ہے، لیکن ایک سال سے کم عمر بچوں کی قتل عام انکی نزدیک آزادی کی جنگ ہے۔ فلسطینی مزاحمت کاروں نے کسی اسرائیلی بچے کو قتل کیا نہ خواتیں کو اور نہ بڑے عمر کے افراد کو، بلکہ انکو تحفظ فراہم کیا۔ جبکہ صیہونی دہشتگردی کو دیکھیے! کہ ان کی بربریت کا زیادہ نشانہ بچے ہیں۔ بچوں، خواتیں اور بزرگ افراد کے ساتھ ہسپتال میں پڑے زندگی و موت کی کشمکش میں جینے والے لاشوں کو بھی شہید کردیا، عالمی سطح پر ممنوع فاسفورس بموں کا استعمال کیا۔ لیکن عالمی قوتوں کو اس وقت انسانی حقوق اور اقوام متحدہ یاد نہیں رہے اور انھوں نے کھل کر اسرائیل کی پشت پناہی کی۔ مغربی دنیا اس کے بعد کس منہ سے انسانیت کا درس دے گی؟ جس امریکہ نے فلسطینی مزاحمتی حملے کے بعد لمحہ بھر میں اسرائیل کی سیاسی اور عسکری حمایت کا اعلان کیا اور فلسطینی دہشتگردوں (بقول انکے) کے خلاف میدان میں ٹانگ اڑائی وہ بھی اس دہشتگردی پر خاموش رہا اور اسرائیل کو کھلی چھوٹ دے دیا۔ کیونکہ ایک تو اسرائیل اسکا جنا ہوا بچہ ہے اور دوسرا امریکہ کی تاریخ بھی اسی طرح دہشتگردی کے واقعات سے بھرپور ہے۔

یہ لوگ فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کو بہر صورت ناکام بنانا چاہتے ہیں، ہر طرف سے ان پر دہشتگردی کا لیبل چسپاں کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ فلسطینی مزاحمت کو دہشتگردی کا نام دے کر صیہونیوں کے لیے قتل عام کا جواز فراہم کررہے ہیں۔ فلسطینیوں کی مزاحمت کے ساتھ انکی آواز کو بھی دبانے کی کوشش کررہے ہیں، عالمی میڈیا پر انکی آواز اور انکی حمایت کو دبایا جارہا ہے، ان پر ضروریات زندگی اشیائے خوردنی، بجلی، انٹرنیٹ سروس، ایندھن وغیرہ قطع کردیا ہیں۔ اسکا تو صاف مطلب ہے کہ اسرائیل کا مقصد کسی نہ کسی طرح فلسطینیوں کی نسل کشی کرنا ہے، اور اسرائیل کے ساتھ اس دہشتگردی میں امریکہ اور برطانیہ برابر شریک ہیں۔ اسرائیل خود دہشتگردی کے ذریعے سے قائم ہوا ہے تبھی تو وہ امن معاہدوں کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے تا کہ بیرونی خطرات سے حفاظت حاصل کرے۔ لیکن یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک بچے کے گھر کو آپ نے مسمار کردیا، اس کے والدین کو قتل کردیا اور اسکی زمین پر قبضہ کرلیا، اور آپ اس سے سمجھوتہ کی امید رکھتے ہیں؟

مغربی میڈیا پر اسرائیل کی حمایت کے چرچے ہیں، لیکن فلسطینیوں کی حمایت پر پابندی ہے۔ قطر کا ایک عالمی نشریاتی ادارہ الجزیرہ ہی ہے جو فلسطین میں اسرائیل کا ظالم و خونخوار چہرہ دنیا کو دکھا رہا ہے، لیکن مغربی دنیا اس پر بھی دباؤ ڈالنے کی کوشش کررہی ہے۔ صیہونی دہشتگردوں نے مزاحمتی فوج کے بجائے عام شہریوں کو نشانہ بنایا ہے، ہزاروں باشندوں سمیت کئی صحافی اور میڈیا ارکان کو بھی شہید کردیا، ہسپتال کو بھی اپنی بھیانک ظلم کا نشانہ بنایا جو دہشتگردی کا ایک ہولناک حادثہ ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود امریکہ اور اقوام متحدہ کو انسانی حقوق یاد نہیں آئے اور نہ انسانی حقوق کا منشور متحرک ہوا۔ لیکن اسرائیل پر حماس کے بھرپور ردعمل کے بعد ان سب مفاد پرست قوتوں کا جھنڈ اکھٹا ہوگیا اور انسانی حقوق کا راگ الاپنے لگا۔ یہ کونسی عقلمندی ہے کہ مغربی ممالک کے لیے انسانی حقوق کا منشور متحرک رہتا ہے لیکن مسلمانوں کے بارے میں اسے بتانا پڑتا ہے کہ بھئی یہ بھی انسان ہیں۔ کیا انسانی حقوق کا عالمی منشور صرف مغربی اقوام کے لیے ہے؟ کیا مسلمان انسانوں کے دائرے سے باہر ہیں؟ مسلمانوں کی ہر مزاحمت مغرب کے ہاں دہشتگردی کیوں ٹھہر جاتی ہے؟ اگر یہ منشور صرف مغربی اقوام کے لیے ہے تو اسے عالمی نہیں بلکہ مغربی منشور نام دینا چاہیے۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ دنیا میں اقوام متحدہ یا انسانی حقوق کوئی حقیقی شے نہیں ہے بس یہ ایک کھوکھلا نعرہ اور اپاہج منشور ہے جس سے مسلمانوں کو خوش فہمی میں رکھا جاتا ہے، ورنہ حقیقت میں یہ ایک غنڈہ راج اور عالمی دہشتگردی ہے اور اس کے سرغنہ امریکہ اور اسرائیل ہیں۔


بشکریہ: روزنامہ ”چاند“ سوات، پیر 6 نومبر 2023ء، 21 ربیع الثانی 1445ھ؛

حیدرعلی صدیقی

مسلم / پاکستانی / لکھاری

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی